کلب فٹ (ٹیڑھے پاؤں) — بچوں کی ایک اہم پیدائشی بیماری
السلام علیکم،
آج میں آپ کو بچوں کی ایک انتہائی اہم بیماری کے بارے میں بتانے جا رہا ہوں جسے “کلب فٹ” یا عام زبان میں “ٹیڑھے پاؤں” کہا جاتا ہے۔
یہ ایک پیدائشی بیماری ہے، یعنی بچہ پیدائش کے وقت ہی اس مسئلے کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اس بیماری میں بچے کا پاؤں اندر اور نیچے کی طرف مڑا ہوا ہوتا ہے۔ تقریباً پچاس فیصد بچوں میں دونوں پاؤں متاثر ہوتے ہیں جبکہ باقی بچوں میں ایک پاؤں متاثر ہوتا ہے۔
کلب فٹ کی بروقت تشخیص کیوں ضروری ہے؟
اگر آپ کے گھر میں ایسا بچہ پیدا ہو جس کے پاؤں ٹیڑھے نظر آئیں تو فوراً کسی ماہر آرتھوپیڈک ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
ابتدائی علاج بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ پیدائش کے بعد بچے کی جلد اور جوڑ نرم ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے علاج نسبتاً آسان اور زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
عام طور پر ہم علاج ایک سے دو ہفتے بعد شروع کرتے ہیں۔ اس دوران بچے کی جلد تھوڑی مضبوط ہو جاتی ہے اور پھر پلاسٹر کے ذریعے علاج شروع کیا جاتا ہے۔
کلب فٹ کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟
کلب فٹ کے علاج میں ہر ہفتے بچے کے پاؤں کو آہستگی سے درست پوزیشن میں لا کر پلاسٹر لگایا جاتا ہے۔ ہر ہفتے نیا پلاسٹر کیا جاتا ہے اور عموماً چھ سے سات پلاسٹرز کے بعد پاؤں کافی حد تک اپنی نارمل حالت میں آ جاتا ہے۔
اس کے بعد ایک چھوٹا سا پروسیجر کیا جاتا ہے جسے “ٹینوٹومی” کہا جاتا ہے۔
یہ ایک معمولی عمل ہوتا ہے:
اس میں بڑے آپریشن کی ضرورت نہیں ہوتی،
عمومی بے ہوشی کی ضرورت نہیں پڑتی،
اور مریض اسی دن گھر جا سکتا ہے۔
ٹینوٹومی کے بعد مزید تین ہفتوں کے لیے ایک آخری پلاسٹر لگایا جاتا ہے۔
سب سے اہم مرحلہ — بریس کا استعمال
علاج کا سب سے اہم اور مشکل مرحلہ والدین کے لیے بریس (Brace) کا استعمال ہوتا ہے۔
ابتدائی تین مہینوں تک بچے کو تقریباً 23 گھنٹے بریس پہنایا جاتا ہے۔
صرف ایک گھنٹے کے لیے اسے اتارا جا سکتا ہے۔
اس کے بعد تقریباً چار سے پانچ سال تک بچہ رات کے وقت بریس استعمال کرتا ہے جبکہ دن میں اسے اتار دیا جاتا ہے۔
اگر بریس کا استعمال صحیح طریقے سے نہ کیا جائے تو بیماری دوبارہ واپس آ سکتی ہے۔
علاج میں تاخیر کے نقصانات
اگر کلب فٹ کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو بعد میں مسائل بڑھ جاتے ہیں۔
ابتدائی مرحلے میں یہ بیماری عموماً پلاسٹر سے ٹھیک ہو جاتی ہے، لیکن علاج میں تاخیر ہونے پر:
بڑے آپریشن کی ضرورت پڑ سکتی ہے،
پاؤں کی ہڈیوں کی ساخت خراب ہو سکتی ہے،
اور بعد میں نارمل پاؤں جیسا نتیجہ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
جب بچہ ٹیڑھے پاؤں پر چلنا شروع کرتا ہے تو ہڈیاں مزید خراب ہونا شروع ہو جاتی ہیں، جس سے علاج پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
والدین کے لیے اہم پیغام
اگر آپ کے بچے کے پاؤں پیدائش کے وقت ٹیڑھے ہوں تو فوراً ماہر آرتھوپیڈک ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بروقت علاج سے زیادہ تر بچے نارمل زندگی گزار سکتے ہیں اور بڑے آپریشن سے بچ سکتے ہیں۔
خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں کلب فٹ کلینک
ہمارے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں کلب فٹ کا خصوصی کلینک موجود ہے جہاں:
کلب فٹ کا علاج کیا جاتا ہے،
پلاسٹر کیے جاتے ہیں،
اور بچوں کو بریس بھی مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔
بروقت علاج بچے کے بہتر مستقبل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
شکریہ۔













